Loading 0

Qasim Ali Shah

Share

عبادت کا ایک اہم پہلو

عبادت کا ایک اہم پہلو Column by Qasim Ali Shah. 92 News 04 July 2021.

Scroll Down

عبادت کا ایک اہم پہلو

عبادت کا ایک اہم پہلو

عبادت کا ایک اہم پہلو
Will Power
یعنی قوتِ ارادی وہ طاقت ہے جس سے انسان بڑے سے بڑے کام کرسکتا ہے اور اپنی عادت و مزاج کوڈسپلن کا پابند کرکے بہتر بناسکتا ہے۔اس کی نشانی یہ ہے کہ انسان ایک کام کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرلے اور پھر اس پر ڈٹ جائے۔آپ اگر تاریخِ اسلام یا تاریخ پاکستان پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ کوئی بھی کامیاب شخصیت اس کے بغیر کامیاب نہیں ہوئی۔ایک بڑے اور مشہور مصور مارک اینجلیو کے بارے میں مورخ لکھتا ہے کہ
جب وہ مجسمہ بناکر فارغ ہوتا اور جوتا اتارتا توجوتے کے ساتھ اس کے پاؤں کی کھال بھی اتر جاتی ،کیونکہ وہ اپنے کام میں اس قدر کھوجاتا کہ اسے خبر ہی نہ ہوتی کہ کتنے دنوں تک وہ مصروف رہا ۔

عبادات کا مقصد
دین اسلام میں روزے کا حکم بھی دراصل انسان کی Will Power بڑھانے کے لیے ہے اور صرف روزہ ہی نہیں بلکہ تمام عبادات کا مقصد جہاں بندگی ہے،وہیں ان کا نتیجہ قوتِ ارادی کو مضبوط کرنابھی ہے۔ایک خوبصورت آیت ہے :
’’بے شک نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔‘‘(سورۃ العنکبوت:45)
انسان میں اگر حیا نہ ہو تو وہ اس کی آنکھ سے پتا چل جاتا ہے۔دوسری چیز انسان کاAura (باطنی اثر)بتادیتا ہے کہ اس میں حیا کی کمی ہے ۔اسی طرح حیادار انسان کی موجودگی اس کی حیاداری بتادیتی ہے۔آیت کے مطابق اگرکوئی انسان نماز کا تو پابند ہے لیکن اس میں حیا نہیں ہے تو پھر اس کی عبادت پر سوالیہ نشان ہے۔دوسری بات یہ واضح ہوجاتی ہے کہ اس انسان میں Will Power نہیں ہے۔

Will Power
کامطلب آسان الفاظ میں ہے
’’دِل کا چاہنا لیکن قابو پانے کی طاقت رکھنا۔‘‘
خواہش کی موجودگی میں اس پر قابو پانے کا نام Will Power ہے۔انسان کے سامنے پانی اور کھانا پڑ اہے،وہ چاہے تو چپکے سے کھاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ پورا دِن بھوکا او ر پیاسا رہے،صرف اس وجہ سے کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو یہ Will Power ہے۔یعنی آپ اپنے نفس پررَب کی ذات کو حاکم ٹھہراتے ہیں۔

دین کا احسان
دین اسلام کا ہم سب پرایک بہت بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے ہمیں باندھ کر نہیں رکھا ،بلکہ دنیاوی معاملات نبھانے کی مکمل اجازت دی ہے۔اس کے برعکس آپ دیگر مذاہب کو دیکھیں تو وہاں آپ کو رہبانیت ملے گی۔رہبانیت کو اللہ کے رسول ﷺ نے ناپسند فرمایا ہے ۔رہبانیت کا معنی ہے ’’ترکِ دنیا ‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسٹیڈیم میں اتریں ہی نا۔دنیا میں اترے بغیر ہی انسان کھیلتاجائے تا کہ کوئی مشکل پیش نہ آئے تو ایسی صورت میں اس کی Will Powerکبھی نہیں بڑھے گی۔
دین کا مطلب یہ ہے کہ وحی کی شکل میں جو کتاب جس ہستی پر اتری ،اسی ہستی کو اپنا نمونہ بناکر اپنی زندگی گزارنا اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آپ ﷺ کی ذات سے زیادہ دنیاوی معاملات اچھے طریقے سے پور ا کرنے والا اور کوئی نہیں۔آپ نے ہر چیزعملی طورپر کرکے دکھائی،بیوی کے ساتھ حسن سلوک ، بیٹی کے ساتھ شفقت بھرا تعلق ، دوستی ،وفا ،جنگ ،معاملہ ،کاروبار ،زندگی کا کوئی ایک ایسا معاملہ نہیں جو انہوں نے کرکے نہ دِکھایا ہو،بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ بعض اوقات اپنی لاعلمی کی وجہ سے ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ شاید اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں آیا جبکہ درحقیقت اس کی مکمل وضاحت موجود ہوتی ہے۔

عبادت:ڈسپلن :قوتِ ارادی
عبادت دراصل ڈسپلن (تنظیم) کانام ہے ۔بندگی کے ساتھ وقت کی پابندی ہے ۔آپ دیکھیں تو نماز میں کھڑے ہونے کا بھی ایک منظم طریقہ ہے کہ اس دوران صف بنائی جاتی ہے اوراس صف کی بھی ایک ترتیب ہوتی ہے ،حتیٰ کہ نماز جنازہ کی بھی ایک ترتیب ہے ۔دین میں اطاعت کا حکم اس حد تک ہے کہ اگر امام سجدہ کررہا ہے تو آپ نے بھی سجدہ کرنا ہے ۔امام رکوع میں ہے تو آپ کو بھی رکوع کرنا چاہیے ۔نماز میں امام کی اطاعت ، معاملات میں لیڈر کی اطاعت ، ازدواجی زندگی میں شوہر کی اطاعت اور گھر میں والدین کی اطاعت ۔یہ ترتیب دراصل ڈسپلن ہے اور ڈسپلن سے Will Power پیدا ہوتی ہے ۔وہ Will Powerکہ جس میں آپ کا دِل نہیں کررہا لیکن فجر میں اٹھ کر آپ ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے ہیں۔یہ تابعداری اور قوتِ ارادی کی انتہا ہے کہ جسم اس وقت آرام و راحت مانگ رہا ہے لیکن آپ رب کے حکم کو ترجیح دے رہے ہیں۔نمازوں میں سے مشکل نمازیں عشاء اور فجر کی ہیں کہ آپ پورے دِن کے تھکے ہیں ،کھانا کھالیا ہے اور اب آپ پر غنودگی طاری ہے لیکن پھر بھی اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔اسی طرح فجر کی نماز کہ جو آپ نے راحت بھری نیند اور نرم بستر کو چھوڑ کرپڑھنی ہے ۔ پھر نفس کو سب سے زیادہ چوٹ لگانے والی نماز تہجد ہے ،کیونکہ اس وقت ذہن کی نفسیات یہ بتاتی ہے کہ آپ بھرپورنیند میں ہیں لیکن آپ اٹھیں ، آپ نے وضو کیا اور اللہ کی بارگاہ میں اس یقین کے ساتھ دُعا مانگی کہ وہ پہلے آسمان پر مجھے سن رہا ہے ۔

اَلَمِیَہ
ہمارے معاشرے میں لوگ عبادت میں بہت زیادہ آگے ہیں لیکن معاملات میں آگے نہیں ہیں ۔آپ کو بہت سارے لوگ ملیں گے جن کی عبادت کو رَشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن جب ان کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے تو آپ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔وجہ یہی ہے کہ اُن لوگوں کی عبادت وہ Will Power پیدا نہیں کررہی جو دین کا اصل مغز اور حاصل ہے۔
آپ کوئی بھی عبادت لے لیں، چاہے معاملات کی عبادت ہو یا الٰہیات کی ،وہ آپ کو قربانی سکھائے گی ۔ذرا والدین کے حکم کی طرف دیکھیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ان کے سامنے اُف بھی نہ کہو۔انسان دِل میں سوچتا ہے کہ
’’ میں اپنے والدین سے زیادہ پڑھا لکھا اور جدید زمانے کا انسان ہوں ان کو شاید اتنا نہیں معلوم جتنا مجھے معلوم ہے‘‘
لیکن پھر بھی حکم ہے کہ اُف نہیں کہنا۔اسی طرح بھائی کے بارے میں یہ ہے کہ اس کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو،حالانکہ نفس کہتا ہے کہ وہ تو تمہاریے لیے ایسا نہیں چاہتا تو پھرتم کیوں اس کے لیے جان کھپارہے ہو؟لیکن دین کہتا ہے کہ نہیں ! دوسرے مسلمان کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے چاہتے ہو ، اس سے آپ کی Will Power بڑھے گی۔اپنی پسند کو چھوڑدینا Will Power ہے ،کیونکہ یہ آپ کی تمنا تھی جو آپ نے چھوڑدی.

ماڈرن لٹریچر کاپہلا اصول
ہم اگر ماڈرن لٹریچر اور سیلف ہیلپ پر نظر دوڑائیں تو اس کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ انسان کامیاب تب ہوتا ہے جب اس کی Will Powerمضبوط ہو۔آپ کوبہت سارے لوگ ایسے ملیں گے جو ارادے باندھتے ہیں ،سوچتے ہیں اور توڑدیتے ہیں اور سیلف ہیلپ کے اس بنیادی قاعدے کے مطابق وہ اکثر ناکام ہوتے ہیں۔مجھ سے یہ سوال بہت زیادہ پوچھا جاتا ہے کہ Will Powerکیسی بنائی جائے ؟میرا جواب یہ ہے کہ انسان اگر عبادت کے مغز اور روح کو سمجھتے ہوئے عبادت کرے تو اس میں Will Power پیدا ہوجائے گی۔
اگلا درجہ اس کا یہ ہے کہ رَب آپ کو یہ فہم دے کہ آپ جو کررہے ہیں اس کے اثرات نظر آنا شروع ہوجائیں ۔ایمان کی تعریف یہ ہے کہ دنیا کا سارا علم ،آپ کی ساری عقل اور خواہشات سب چیزوں کے اوپرآپ نے ایک اور چیز وحی رکھ دی۔وحی جو اللہ کا پیغام ہے ۔وہ رب جو دِکھ نہیں رہا اس پر آپ ایمان لے آئے ہیں ،توپھروہ وقت دورنہیں جب آپ کو دِکھناشروع ہو جائے ۔آپ اللہ کو سپریم پاور مانتے ہیں اور اس کے سارے احکامات بجا لاتے ہیں تو پھر وہ آپ کو دِکھابھی دیتا ہے ۔
نتائج مخفی بھی ہوسکتے ہیں اورعیاں بھی ۔ہماراایمان یہ ہونا چاہیے کہ نتیجہ کہیں نہ کہیں پڑا ہواہے جو ملے گا۔آپ کاایمان یہ ہونا چاہیے کہ آخرت میں جزا ملے گی۔یہ جزا اگرچہ یہاں نظر نہیں آرہی لیکن آخرت میں ملنا یقینی ہے۔

سان
انسان کی زندگی میں حالات ،واقعات اور آنے والے لوگ اس کے لیے ’’سان‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں ۔یہ رگڑا لگا کر اس کو پالش کرتے ہیں ۔ سان کے بغیر تلوار تیز نہیں ہوسکتی۔تلوار کی چمک سان سے آتی ہے لیکن اگر سان ہی نہ ہو تو پھر تلوار کیسے تیز ہوگی ؟قدرت مختلف طرح کے حالات پیدا کرکے انسان کو تیار کرتی ہے۔وہ پوری ایک لیبارٹری ہوتی ہے جس میں آپ کی معمولی معمولی چیزوں کو بھی تیار کیا جارہا ہوتا ہے اور پھر اگلے مقام پر پہنچ کرسمجھ آتی ہے کہ قدرت نے وہاں سے مجھے یہاں لانا تھااس لیے مجھے تیار کیا گیا۔

خشوع وخضو ع
عبادت کے لیے بنیادی چیز خشوع و خضوع ہے ۔خشوع و خضوع کا مطلب تیاری ہے۔اپنے آپ کو پورے کا پور ا اس میں ڈھال دینا۔عبادت کے معاملے میں غیر سنجیدگی دِکھانے سے منع فرمایا ہے۔عبادت وہ ہے جو خشوع و خضوع اور پوری تیاری سے ہو۔خشوع و خضوع بھی Will Power کو پیدا کرتی ہے ۔یہ آپ کے فوکس کو اللہ کی ذات پر برقرار رکھتی ہے اور پھر آپ نہ چاہنے والی چیز اور واقعے کو بھی ہنسی خوشی برداشت کرلیتے ہیں۔اسی Will Powerسے آپ دوسروں کا دِل بھی جیت سکتے ہیں ۔جیسے واصف صاحب نے فرمایا:
’’ناپسندہ انسان سے پیارکرو اس کا کردار بدل جائے گا۔‘‘
ناپسندیدہ حالات اور لوگ انسان کی Will Power کا امتحان ہوتاہے ۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایسے انسان سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں جس سے وہ مزید دور ہوجاتا ہے ۔ Will Power کا مطلب یہ ہے کہ آ پ اپنے نفس کے تابع نہیں ہیں بلکہ نفس آپ کا تابع ہے اور اسی سے آپ میں ’’ایثار‘‘ بھی پیدا ہوگا کہ اپنا حق بن رہا ہو لیکن آپ اس کو چھوڑد یں،اسی طرح کوئی انسان بداخلاقی کرے اس کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا ، درگزر ، معافی ، بدلہ نہ لینا یہ سب Will Power کوبڑھاتی ہیں۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بہادر وہ نہیں جو دوسرے انسان کوگرادے بلکہ بہادر وہ ہے جو اپنے غصے پر قابو پالے ۔
ہم سب کو اپنی عبادات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ یہ ہماری Will Power کو بڑھارہی ہیں یا نہیں ؟اگر عبادت کے باوجود بھی انسان نفس کے زیرِ اثر ہے اور اس کا فوکس اللہ کی ذات پر نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ خشوع و خضوع میں کمی ہے ،جس کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ اگر پیدا ہوجائے تو پھر عبادت کے ثمرات کھلی آنکھوں سے دِکھنا شروع ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

01.