Loading 0

Qasim Ali Shah

Share

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے Column by Qasim Ali Shah Dunya Magazine Sunday 13 February 2022.

Scroll Down

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے

بچے کہنا کیوں نہیں مانتے
(قاسم علی شاہ)
والدین اور اساتذہ کیلئے یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ اکثر بچے کہا نہیں سنتے یا سنتے ہیں تو کم۔ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو بعض اوقات میں تو بہت تابع ہوتے ہیں، مگر دیگر اوقات میں سنی اَن سنی کردیتے ہیں۔ والدین کی حیثیت سے اگر آپ اپنے بچے کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تویہ بہت ضروری ہے کہ آپ کو وہ اسباب معلوم ہوں کہ جن کی وجہ سے بچہ آپ کا کہا نہیں سنتا۔ ان اسباب کو جان کر آپ کیلئے اس کی بے تابعی کو تابعیت میں بدلنا آسان ہوگا۔ آئیے، ماہرین کی آرا کی روشنی میں ہم جانتے ہیں کہ وہ کیا عمومی اسباب ہوسکتے ہیں جن کی وجہ سے بچہ اپنے ماں یا باپ یا اساتذہ کی حکم عدولی کرتا ہے۔

1 – تیز مزاجی
بعض بچے پیدائشی طور پر تیز مزاج ہوتے ہیں۔ ایسے بچے کوئی بھی کام جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے بچوں کو Hyperactive child کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت اگر کسی بچے میں زیادہ بڑھ جائے تو وہ بیماری کے زمرے میں چلی جاتی ہے اور اسے ADHD یا Attention Deficit Hyperactivity Disorder کا نام دیا جاتا ہے۔
اگر بچہ بہت زیادہ جلد باز اور پھرتیلا ہے یا بات نہیں سن رہا ہے تو بہتر ہوگا کہ کسی نفسیاتی معالج سے معائنہ کراکے اس سے مشورہ لے لیا جائے۔

-2 اختیار کی خواہش
بچے کے کہنا نہ ماننے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بچہ خود کو پورا با اختیار فرد سمجھتا ہے اور وہ اس کے اظہار کیلئے اپنے بڑوں کی طرح برتاؤ اختیار کرتا ہے۔ اس اظہار کیلئے اس کے پاس سب سے موثر اور آسان طریقہ یہی ہوتا ہے کہ جب اس کے ماں باپ اسے پکاریں یا کوئی کام کہیں تو وہ ان کی بات نہ مانے۔ اس کی نظر میں، یہ اقدام دراصل اس کی اپنی حیثیت کو نمایاں اور با اختیار بنانے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اگر وہ والدین کا کہا مان لے گا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بااختیار نہیں ہے۔

3 – گھر کا کشیدہ ماحول
گھریلو ماحول یا کوئی خاص مسئلہ بھی بچے کو حکم عدولی پر لاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، گھر میں اگر اس نے ماں باپ کو لڑتے ہوئے دیکھا ہے تو بچہ اسٹریس میں آکر کام کرنے سے احتراز کرتا ہے۔ اس کے برخلاف، اگر گھر کا ماحول خوش گوار اور پُرفضا ہے تو بچہ اس دوران بھاگ بھاگ کر خوشی خوشی اپنے والدین کے کام کرنا چاہے گا۔آزماکر دیکھ لیجیے۔

4 – بڑے بھائی بہن کی مثال
ایک بہت عام سبب آپ کے بچے کی حکم عدولی و نافرمانی کا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد اپنے بڑے بھائی یا بہن کو والدین کا کہا نہ مانتے ہوئے دیکھتا ہے۔ بچے اپنے سے بڑوں کی نقل بہت خوب کرتے ہیں، کیوں کہ اُن کے بڑے ان کیلئے رول ماڈل ہوتے ہیں… اچھا یا برا… اس سے انھیں کوئی بحث نہیں ہوتی۔ چنانچہ اگر گھر کا ایک بچہ یا فرد کوئی کام نہیں سنتا یا بات نہیں مانتا تو چھوٹا بچہ بھی وہی کرے گا اور وہ اس طرزِعمل کو درست سمجھے گا۔

5 – کمزور تعلقات
بچے اور والدین کے درمیان، ایسے ہی بچے اور استاد کے درمیان کمزور تعلقات بھی بچے کو نافرمان بناتے ہیں۔ بچہ ان لوگوں کی بات سننا اور حکم پر عمل کرنا پسند کرتا ہے جنھیں وہ پسند کرتا ہے۔ رعب، غصہ یا تحکمانہ انداز اختیار کرکے آپ بچے سے ایک دو مرتبہ تو کام لے سکتے ہیں، اسے اس کام کی طرف راغب نہیں کرسکتے۔ یہ مسئلہ ہمارے گھروں اور اسکولوں میں بہت ہی عام ہے۔ مطالعات بتاتے ہیں کہ والدین اپنے بچے کے ساتھ جتنا کم وقت گزارتے ہیں، بچہ اتنا زیادہ نافرمان ہوتا ہے۔ لہٰذا، ماں یا باپ کی حیثیت سے آپ اپنے بچے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ معیاری وقت گزاریے۔ آپ اپنے بچے کے برتاؤ میں واضح تبدیلیاں مشاہدہ کریں گے۔ معیاری وقت کا مطلب جسمانی موجودگی نہیں، بچے پر توجہ اور محبت بھی ہونا چاہیے۔

6 – بے پروائی
بچے سے والدین کی بے پروائی بھی بچے کو نافرمانی پر اکساتی ہے۔ یعنی اگر بچہ کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس سے صرفِ نظر کرنا غلط ہے۔ بچے کو غلطی کی ہلکی پھلکی سزا ملنی چاہیے۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آزاد نہیں ہے۔ جس گھر میں بچے کے غلط کام پر اُس کی سرزنش نہیں کی جاتی، ایسے بچے غلط کام میں بے باک ہوجاتے ہیں۔ ایک حد یہ آتی ہے کہ وہ گھر سے باہر ملکی قانون کو ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ بڑے مجرم وہی ہوتے ہیں جنھیں بچپن میں ان کے والدین نے بچہ سمجھ کر انھیں ٹوکا نہیں یا سزا نہیں دی۔
البتہ، سزا اور جزا میں توازن بہت ضروری ہے۔ ماں اور باپ، دونوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ سزا اور جزا کی حدود کیا ہیں۔

7 – والدین کا فیصلہ بدلنا
بچے کی ضد پر والدین کا اپنا حکم واپس لینا بھی بچے کو والدین کے سامنے بے باک کردیتا ہے۔ میرے ایک عزیز نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ اپنے ڈھائی سالہ بیٹے کو پہلی بار گھر میں دادی کے پاس چھوڑ کر ہسپتال جارہے تھے کہ بیٹے نے ماں کو گھر سے باہر باپ کے ساتھ جاتے دیکھ کر اُدھم مچادیا۔ ماں کا دل تو پسیجا، لیکن باپ نے ماں کو منع کردیا کہ ایک مرتبہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانے کا فیصلہ کیا ہے تو بچے کی ضد پر یہ فیصلہ مت بدلنا۔ یوں ہی کیا گیا۔ دونوں ماں باپ اپنے بچے کو روتا چھوڑگئے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ماں باپ تو بہت ظالم تھے۔

بچے کو فرماں بردار کیسے بنایا جائے؟
اگر بچہ نافرمانی اور حکم عدولی کرتا ہے تو والدین کی حیثیت سے آپ کو کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں کہ آپ کا بچہ آپ کی بات سننے اور ماننے والا بن جائے۔ اس سلسلے میں آپ کیلئے درج ذیل مشورے بہت ہی مفید اور کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔

1 -گھر کیلئے قوانین بنائیے
چھوٹے سے چھوٹا ادارہ بھی اپنی جگہ کام نہیں کرسکتا جب تک اس میں قوانین واضح نہ ہوں۔ قانون سازی کا مطلب سختی نہیں ہوتا، اس سے ادارے میں نظم (ڈسپلن) پیدا ہوتا ہے اور نظم واضح کرتا ہے کہ کس کی کیا ذمہ داری ہے۔
آپ کی زندگی میں آپ کیلئے سب سے اہم ادارہ آپ کا گھر، آپ کا خاندان ہے۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سب سے اہم ادارے یعنی گھر کیلئے چند قوانین اور ضابطے طے کریں۔ یہ ضابطے غیر واضح نہ ہوں۔ مثال کے طور پر، اچھے بچے بنو، کھانا تمیز سے کھائو، وغیرہ۔ بلکہ واضح ہوں جیسے جب کوئی بات کررہا ہوتو اس کے درمیان میں نہ بولا جائے، اس کی بات ختم ہونے کا انتظار کرو۔ کھانا وقت پر دسترخوان پر کھایا جائے گا وغیرہ۔
ایسے ہی یہ تمام دستور منفی انداز سے نہ ہو کہ یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، بلکہ مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے۔ مثال کے طور پر، یہ نہ کہا جائے کہ بیچ میں نہ ٹوکو بلکہ یہ سمجھایا جائے کہ جب ایک اپنی بات مکمل کرلے تب تم اپنی بات کہو۔
باشعور والدین یہ شعور بھی بچے کو دیتے ہیں کہ گھر میں جو قوانین لاگو ہیں، وہ دراصل سختی نہیں، بلکہ ان کی بہتر اور منظم زندگی کیلئے ضروری ہیں۔ اگر وہ منظم زندگی آج گزاریں گے تو آگے چل کر کسی بھی ادارے یا کسی بھی ماحول میں کام کرنا اُن کیلئے بہت آسان ہوسکے گا۔
اس ضمن میں، دوسری اہم بات یہ ہے کہ خود والدین کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ قوانین صرف بچے کیلئے نہ ہوں، پہلے خود اپنے لیے یعنی میاں اور بیوی آپسی رکھ رکھائو میں کچھ قوانین طے کریں۔ پھر ان ضابطوں کے مطابق ہی وہ اپنی زندگی گزاریں۔ ان قوانین اور ضابطوں کا تعین بہتر ہوگا کہ شادی کے اوائل ہی میں میاں بیوی کرلیں تو ان پر عمل درآمد آسان ہوگا اور اپنے بچوں کیلئے وہ موثر مثال بن کر سامنے آئیں گے۔
مثال کے طور پر، میاں بیوی یہ طے کریں کہ اگر دونوںمیں سے کوئی غلطی کرے گا یا بچوںکی سرزنش غلط انداز سے کرے گا تو بچے کے سامنے وہ ایک دوسرے کو نہیں ٹوکیں گے اور نہ الجھیں گے۔ ایسے ہی اگر انھیں کسی مسئلے پر مشورہ کرنا ہے تو وہ بحث مباحثہ بچوں کیسامنے نہیں کریں گے۔ ایک اور مثال، بچوں کی نیند کی لے لیجیے۔ والدین اگر دیر سے سوئیں تو بچے بھی دیر سے سوتے ہیں۔ باپ اگر کماتا ہے اور دیر سے آتا ہے تو میاں بیوی یہ طے کرلیں کہ بچے وقت پر سوجائیں گے۔ باپ کا انتظار نہیں کریں گے۔

2 – روزمرہ کے نشیب و فراز سے سبق
جو لوگ خود کو غیر متوقع چیزوں کیلئے تیار رکھتے ہیں، وہ کیسے ہی حالات آئیں، گھبراتے نہیں، بلکہ ان حالات سے سیکھتے ہیں۔ والدین کی حیثیت سے آپ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچے کا مزاج ایسا بنائیں کہ وہ اپنی زندگی کے نشیب و فراز سے سیکھنے کی اہلیت رکھتا ہو۔
یہ حقیقت ہے کہ آدمی کتنا ہی منظم ہو، کتنا ہی اصولوں پر عمل کرنے والا ہو، کچھ نہ کچھ ایسا ہو ہی جاتا ہے، جو توقعات کے خلاف ہوتا ہی ا ور یوں طبیعت پر بارِ گراں گزرتا ہے۔ بچے چونکہ اپنی خواہش کی تکمیل پر بہ ضد ہوتے ہیں تو جب ان کے ساتھ ان کی توقع کے خلاف کچھ ہوگزرتا ہے تو وہ بہت جزبز ہوتے ہیں۔ ایسے مزاج والے بچے خلافِ توقع ہونے پر اپنے کھلونے توڑدیتے ہیں یا پھر چیختے چلاتے ہیں۔
اگر بچپن میں اس مزاج کی اصلاح نہ کی جائے تو ایسا بچہ بڑا ہوکر ضدی یا مجرم بھی بن سکتا ہے۔ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اس مزاج کا مشاہدہ کرکے اسے درست کرنے کی موثر تدابیر اختیار کریں۔

3 – بچے کو سننا سکھائیے
’’بچے نہیں سنتے‘‘ والدین کی بہت عام شکایت ہے۔ لیکن، کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ اس برتاؤ میں بہت اہم کردار والدین خود ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں چند اہم باتیں والدین کی حیثیت سے آپ کے سامنے ہونی چاہئیں۔ اگر ان باتوں پر آپ عمل کرلیں تو آپ کے بچے آپ کی بات سننے کے قابل ہوسکیں گے۔
بچے سے بات کریں تو اسے کہیے کہ وہ آپ کی طرف دیکھے۔ عموماً بچے جب اپنے کھیل میں مصروف ہوتیہیں تو وہ اتنے محو ہوتے ہیں کہ والدین خاص کر ماں کی سنی اَن سنی کردیتے ہیں۔ جب آپ بچے سے کچھ کہیں اور وہ آپ کی طرف نہ دیکھے تو اسے ٹوکیے اور اپنی طرف دیکھنے یا توجہ دلانے کا کہیے۔ اسے بتائیے کہ گفتگو کرنے کا یہی درست طریقہ ہے۔ ایسے میں ماں یا باپ کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داری بھی یہ بنتی ہے کہ بچے کی طرف دیکھ کر اس سے گفتگو کریں۔ مخاطب کی طرف دیکھنے کا مطلب ہے، اس کی طرف متوجہ ہونا۔
بچے کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُس کی تعریف کیجیے۔ مثال کے طور پر، وہ صبح سویرے روئے دھوئے بغیر بستر سے اٹھ جائے، ہاتھ منہ دھولے، مسواک کرے یا نمازکو جائے تو ہر بار اس کے ہر عمل کی تعریف کرنی چاہیے۔ یوں، بچے کو خوشی ہوتی ہے اور اس میں اچھے کام کرنے کا جذبہ بڑھتا ہے۔ بچہ اگر کوئی بڑا کام اچھا کرڈالے تو اسے کوئی انعام بھی دینا چاہیے، جیسے کوئی کھلونا یا کھانے کی چیز۔ اس سے بچے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیںکہ گھر میں ایک چارٹ آویزاںکرلیا جائے جس میں تمام بچوں کے نام، دن، ان کے اچھے کام اور ان کے آگے انھیں جو انعام دیا گیا ہے، وہ لکھا ہوا ہو۔ یوں، چلتے پھرتے ان میں مزید اچھے کام کرنے کی تحریک پیدا ہوگی۔

4 – بچوں کیلئے مثال بنیں
یوں کہنا چاہیے کہ بچے کو تابع اور فرماں بردار بنانے کا شایدیہ سب سے موثر اور آسان طریقہ ہے۔ بچوں کو زندگی میں عمل کیلئے عملی نمونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرض کیجیے، اگر آپ اپنے گھر میں بنائے گئے ضوابط پر عمل نہیں کرتے تو آپ کا بچہ بھی ان ضابطوں کو توڑے گا۔ مثال کے طور پر، آپ کے گھر کا ضابطہ ہے کہ کھانے کی میز یا دسترخوان پر کوئی بھی فون لے کر نہیں بیٹھے گا۔ اگر آپ ماں یا باپ کی حیثیت سے اس قانون پر عمل کریں گے تو آپ کا بچہ بھی کھانے کے دوران فون سے نہیں کھیلے گا اور نہ کسی دوسرے شغل میں لگے گا۔ لیکن، آپ نے کھانے کے دوران اپنا موبائل نہ چھوڑا تو وہ بھی کھانے کے دوران موبائل سمیت دیگر مصروفیات میں خود کو مشغول رکھے گا۔ ایسے ہی آپ چاہتی ہیں کہ آپ کا بچہ تحمل اور بردباری سے بات کرنے والا بنے تو آپ کو خود اس انداز سے بول کر مثال قائم کرنی پڑے گی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ اُونچی آواز میں بات کریں اور بچہ دھیمی آواز میں بولے۔
ایک بہت بڑا اصول یاد رکھیے: بچے وہ نہیں کرتے جو آپ اُن سے کہتے ہیں؛ وہ کرتے ہیں جو آپ کرتے ہیں۔
یہ مثالی والدین کا ہی کام ہے کہ وہ اس انداز سے اپنے گھر کے معمولات تشکیل دیں کہ بچے کے تمام کام (ہوم ورک، کھیل کود وغیرہ)بھی مکمل ہوںاور اس کی جسمانی، جذباتی اور ذہنی ضروریات بھی پوری ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

01.