Loading 0

Qasim Ali Shah

Share

کمزوریوں کو قوت میں تبدیل کیجیے

کمزوریوں کو قوت میں تبدیل کیجیے Column by Qasim Ali Shah. 92 News Sunday-Magazine. 20 March 2022.

Scroll Down

کمزوریوں کو قوت میں تبدیل کیجیے

کمزوریوں کو قوت میں تبدیل کیجیے

کمزوریوں کو قوت میں تبدیل کیجیے
(قاسم علی شاہ )
’’جس دن مجھے شکست ہوئی، مجھے اپنی کمزوریوں کا پتا چلا اور اگلے دن میں نے انھیں قوت میں تبدیل کرلیا!‘‘(لیری برڈ)
جہاں انسان کا دانہ پانی ہوتا ہے، وہاں انسان پہنچ جاتا ہے۔ انسان بسااوقات حیران ہوتا ہے کہ فلاں جگہ سے مجھے چائے کیوں مل گئی، کھانا کیوں کھلادیا گیا، فلاں جگہ سے میں کیوں نہ کھا سکا، فلاں جگہ پر کیوں پہنچا۔ جب غورکیا جاتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ دانہ پانی لکھا ہواتھا۔ اکثرایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کسی جگہ اپنا کام کر رہا ہوتا ہے اور پھر ایسی جگہ پر پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ صرف اس لیے وہاں پہنچا کہ اس کا دانہ پانی وہاں ہے۔ جس طرح رزق کادانہ پانی ہوتا ہے، وہ اسے مل جاتا ہے، اسی طرح بات چیت کا بھی دانہ پانی ہوتا ہے۔ ہمیں ایک بات سیکھنی ہے اور وہ بات خاص وقت اور خاص شخص کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تو ہم کہیں موجودہوتے ہیں اور قدرت ہمیں لاکر اس کے سامنے کھڑا کردیتی ہے اور ہم وہ بات سیکھ لیتے ہیں۔
درست تصور
ہم بچپن سے یہ تصور قائم کرلیتے ہیں کہ کسی کی آنکھیں، کان، بازو، ٹانگیں، منہ اور جسم ٹھیک ہیں تو و ہ سو فیصد ٹھیک ہے۔ لیکن غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی دو ٹانگیں ہیں، دو بازو ہیں، دو آنکھیں ہیں، دوکان ہیں اور ان کا ذہن بھی ٹھیک ہے، مگر وہ ٹھیک نہیں۔ ایسے لوگ بہ ظاہر اپاہج نہیں ہوتے، لیکن حقیقت میں اپاہج ہوتے ہیں۔اس کے برعکس کئی لو گ ایسے ہوتے ہیں جو ٹانگوں سے، آنکھوں سے اور بازوؤں سے محروم ہوتے ہیں، لیکن وہ مکمل ہیں کیونکہ اصل میں اپاہج وہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہے، لیکن سب کچھ ہونے کے باوجود ان کا استعمال ٹھیک نہیں ہے۔
ایک اسی سالہ اندھا بھکاری حضرت شیخ سعدی شیرازیؒ کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ’’کاش مجھے اتنی تکلیف والی زندگی نہ ملتی۔‘‘ آپؒ دستک سن کر دروازے پر آئے اور اس سے کہا، ’’آئے توتم بھیک مانگنے ہو لیکن یہ کیا بات کررہے ہو؟‘‘ بھکاری نے جواب دیا، ’’میں مانگنے نہیں آیا۔ میرا ایک سوال ہے۔ مجھے اس کا جواب چاہیے۔‘‘ آپؒ نے پوچھا، ’’کیا سوال ہے؟‘‘ اس نے کہا، ’’میری عمر اَسی سال ہوگئی ہے، لیکن مجھ سے زیادہ بھی بد قسمت کوئی ہوسکتا ہے؟ کیوں کہ میں اسی سال کا ہوگیا ہوں، مگر اتنی عمر گزر جانے کے باوجود دنیا کو دیکھنے سے محروم ہوں۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘ آپؒ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا، ’’تم سے بڑا بدقسمت وہ ہے جس کے پاس آنکھوں کی بصارت تو ہے، لیکن زندگی میں بصیرت نہیں ہے۔‘‘
سیلف میڈ لوگوں کو نمایاں کرنے کی ضرورت
جو لوگ محرومیوں کے باوجود کچھ کرکے دکھاتے ہیں، مغربی معاشرے میں ایسے لوگوں کو بہت نمایاں کیا جاتا ہے۔ انھیں بے شمار سہولیات دی جاتی ہیں۔ وہ سہولیات اچھے روزگار کی صورت میں بھی ہوتی ہیں اور عزت کی صورت میں بھی ہوتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جو لوگ محرومیوں کے باوجود کچھ کرکے دکھاتے ہیں، انھیں دبا دیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہی نہیں کہ ہمیں جو رزق مل رہا ہے، وہ شاید انھی لوگوں کی وجہ سے مل رہا ہو۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں، ’’ایسا ممکن ہے کہ گھر کا ایک ایسا شخص جو کچھ بھی نہ کرتا ہو لیکن ہوسکتا ہے، گھر کے سارے افراد اس کا نصیب کھا رہے ہوں۔‘‘ کسی نے پوچھا، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ فرمایا، ’’بسا اوقات کوئی برکت والا ہوتا ہے۔‘‘
غلط معیارات
ٍ ہمارا معاشرہ ایک بیمار معاشرہ ہے۔ یہ طویل عرصہ جن مراحل میں رہا ہے ان کی وجہ سے یہ آج تک طے ہی نہیں کیا جاسکا کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے، حق دار کون ہے اور کون نہیں ہے؟ ہمیں یہ ادراک ہی نہیں کہ محرومیوں اور کمزوریوں کے باوجود آگے بڑھنے والے لوگ کتنے قیمتی ہیں۔ یہ ملک و ملت کیلئے کتنا بڑا سرمایہ ہیں اور ان کی وجہ سے کتنی برکت ہیں۔
ایک ٹریننگ میں شرکا کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر کھانے کو کہا گیا۔ جب ان لوگوں نے کھانا کھایا تو سب رونے لگے۔ کوچ نے کہا کہ دوستو، دیکھوابھی آپ نے پوری زندگی میں ایک وقت کا ایک کھانا آنکھوں پر پٹی باندھ کر کھایا ہے۔ ذرا سوچئے کہ جس کی آنکھیں نہیں ہیں، اس نے پوری زندگی میں کیسے کھانا کھایا ہوگا۔ پھر انھیں کہا گیا کہ اپنی ٹانگیں باندھیں اور کام کریں۔ انھیںاس انداز سے آدھا گھنٹہ گزارنا مشکل ہوگیا۔ جب رسی کھولی گئی تو کوچ نے کہاکہ اندازہ لگائیے کہ جو لوگ ٹانگوں سے محروم ہیں وہ کس تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہیں۔ تم ان ٹانگوں کے ہوتے ہوئے بھی ان کی قدر نہیں کرتے۔ پھر شرکا سے کہا گیا کہ تھوڑی دیر کیلئے اپنی سانس بند کرلیں اور اس وقت تک بند رکھیں جب تک تکلیف نہ ہونا شروع ہوجائے۔ (جب آکسیجن کم ہوتا ہے توفیصلہ سازی کی قوت پر اثرپڑتا ہے اور دماغ کا توازن خراب ہوجاتا ہے۔) جب پانچ سات بار اس طرح کرایا گیا توکہا گیا کہ ذرا دیکھیں، دنیا کیسی نظر آ رہی ہے۔ انھیں لگ رہاتھا کہ جیسے ساری دنیا گھوم رہی ہے ۔ کوچ نے کہا، مجھے بتائیں کہ جوآدمی ذہنی طور پر تھوڑا سا معذورہے، ذرا اس کی تکلیف کا اندازہ لگائیے کہ وہ ایک لمحے میں کتنی تکلیف سے گزر رہا ہوتا ہے۔
خاص سلوک
ایک دن لیلیٰ لنگر بانٹ رہی تھی۔ لنگر لینے والوں کی لائن میں مجنوں بھی کاسہ لیے کھڑا تھا۔ جب مجنوں کی باری آئی تو لیلیٰ نے اسے لنگر دینے کی بجائے اس کا کاسہ توڑ دیا۔ مجنوں بہت خوش ہوا۔ دوسروں نے پوچھا، تم کیوں خوش ہوئے ہو؟ اس نے جواب دیا، لیلیٰ نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے، تمہار ے ساتھ نہیں کیا۔ اگر کوئی شخص تھوڑا معذورہے تو اسے یہ بات ذہن میں نہیں رکھنی چاہیے کہ یہ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہے؟ اسے سوچنا چاہیے کہ اتنی مخلوق میں اللہ تعالیٰ نے صر ف مجھے چنا اور اسی سلوک کی وجہ سے میرا اللہ تعالیٰ سے تعلق بن گیا اور یہ معذوری مجھے اللہ کی زیادہ یاد دلاتی ہے۔ یہ کتنی بڑی سعادت کی بات ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کوئی کاسہ توڑ کر اپنا تعلق دیا ہے تو یہ برا سودا نہیں ہے۔
بہت ساری دعائیں ایسی ہیں جو ’’ ربی‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب ہے، ’’میرا رب‘‘۔ اگر زندگی میں ہم کہیں ’’میری ماں‘‘ تو احساس محسوس ہوتاہے یا کہیں ’’میرا بیٹا‘‘ تو الگ ہی احساس ہوتا ہے یا کہیں ’’میرا بھائی‘‘ تو الگ احساس ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ کہا جائے کہ ’’میرا رب‘‘ اور احساس نہ جاگے تو پھر یہ سوالیہ نشان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس سے تعلق قائم نہیں۔ جب تعلق قائم نہیں کیا تو پھر گلہ کرنا نہیں بنتا، کیونکہ اس نے تھوڑی سی محرومی دے کر اپنا خاص قرب دیا ہے۔ اگر کوئی دوری ہے تو صرف ہماری طرف سے ہے۔ اُس کی طرف سے نہیں ہے۔ حضرت شیخ سعدیؒ کہیں جارہے تھے۔ پاؤں میں جوتی نہیں تھی۔ انھوں نے گلہ کیا کہ اے میرے مالک، میرے پاؤں میں جوتی نہیں ہے۔ ابھی ذرا کچھ آگے ہی گئے تھے کہ ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے۔ آپؒ فوراً سجدے میں گرگئے اور دعا کی کہ میرے مالک تیرا شکر ہے، اگر جوتی نہیں ہے تو کوئی بات نہیں، پاؤں تو ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں، ’’جو مقام گلہ کا ہوتا ہے، اصل میں وہی مقامِ شکر ہوتا ہے۔‘‘ جو شخص اپنی زندگی سے گلہ ختم کرلیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے مالک، اگر میں تیری نگاہِ خاص میں ہوں تو میرے لیے یہی کافی ہے۔ ایسے شخص کیلئے راستے آسان ہو جاتے ہیں۔
معذور کون
معذور وہ ہے جو سوچ کا معذور ہے۔ اپاہج وہ ہے جس کی فکر اپاہج ہے۔ اپاہج وہ ہے جو نااُمید ہے۔ معذور وہ ہے جس کے پاس امنگ نہیں ہے۔معذور وہ ہے جس کے پاس موٹیویشن نہیں ہے۔ معذور وہ ہے جس کے پاس زندگی میں کچھ کرنے کا جذبہ نہیں ہے۔
منزلیں دور نہیں ہوتیں، صرف ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دو ہی مقام ہوتے ہیں۔ روزگار لینا یا روزگاردینا۔ ارادہ کیجیے کہ مجھے روزگار دینے والا بننا ہے۔ زندگی میں چھوٹی ڈیل نہ کیجیے۔ مالک بننے کا سوچئے۔
آج سے عہد کیجیے کہ ہمیں اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنا ہے اور باقی زندگی کوصبر وشکر، بامقصد اور خیر وبرکت والی بنانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

01.