Loading 0

Qasim Ali Shah

Share

خوف سے آزاد تخلیقی زندگی بسر کریں

خوف سے آزاد تخلیقی زندگی بسر کریں Column by Qasim Ali Shah Express Sunday Magazine,

Scroll Down

خوف سے آزاد تخلیقی زندگی بسر کریں

خوف سے آزاد تخلیقی زندگی بسر کریں

خوف سے آزاد تخلیقی زندگی بسر کریں۔
(قاسم علی شاہ )

جیک گلبرٹ امریکہ کا ایک عظیم شاعرہے۔ یہ 1925ء میں امریکی ریاست پینسیلونیا کے علاقے پٹس برگ میںپیدا ہوا تھا۔ اس زمانے میں پٹس برگ میں بہت سے کارخانے اور فیکٹریاں تھیں۔ جیک فیکٹریوں اور کارخانوں کے اسی دھوئیں اورشور شرابے میں بڑا ہوااور سٹیل مل میں کام کرنے لگا۔ مگر وہ بچپن سے ہی ایک شاعر بننے کا خواب دیکھا کرتا تھا ۔ اس نے شاعری شروع کی اور 1969 ء میں اپنا پہلا مجموعہ شائع کروایا ،جس کوکافی مقبولیت حاصل ہوئی اور مختلف ایوارڈز بھی ملے۔ اس وقت جیک گلبرٹ کی شہرت میں اضافہ ہو رہا تھا لیکن وہ اچانک منظرسے غائب ہوگیا۔ بعد میں اس سے وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ اسے شہرت پسند نہیں ہے۔ وہ اپنی زندگی کا ہر دن منفرد اور الگ نوعیت کا چاہتا تھا۔ اس نے یونان جا کر پہاڑوں کے اوپر ایک سنسان جگہ پرگوشہ نشینی کا فیصلہ کیا۔ جہاں وہ سکون اور آرام سے مختلف موضوعات کے بارے میں سوچ سکتا تھا۔ دوسال بعد اس نے ایک بار پھر اپنی نظموں کا مجموعہ شائع کروایا۔ اس کی نظمیں ایک دفعہ پھر پڑھنے والوں کا دل جیتنے میں کامیاب رہیں۔ وہ تھوڑا عرصہ غائب رہتا اور اس کے بعد اپنی نظموں کا ایک شاہکار دنیا کے سامنے پیش کرتا اور اس کے بعد دوبارہ غائب ہو جاتا۔
کچھ عرصے بعد اس نے ایک یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ تخلیقی سطح پر زندگی بسر کروکیوں کہ یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں دنیا میں الگ شناخت کے ساتھ جینے کی قوت فراہم کرتا ہے۔ جیک کے بقول ہر شخص کے اندر صلاحیتوں کا ایک خزانہ چھپا ہوتا ہے جس سے وہ لاعلم ہوتا ہے ۔ یہ خزانہ تبھی ڈھونڈا جاسکتا ہے جب وہ تخلیقی سطح پر زندگی بسر کرناشروع کریں۔

2015ء میں امریکی صحافی اور بہت سی مقبول کتابوں کی مصنفہ’’ ایلزبتھ گلبرٹ‘‘ نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام
’’Big Magic: Creative living beyond fear‘‘
ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق، تخلیقی سطح پر زندگی گزارنے اور اپنے خوف سے باہر نکلنے کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب کے کچھ اہم نکات آج کی تحریری نشست میں بیان کیے جارہے ہیں۔

(1)اپنے خوف سے نجات حاصل کریں
ہمارے خوف دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک خوف وہ جو ہمیں خطرات سے بچاتا ہے اور دوسرا وہ جو ہمیں تخلیقی سطح پر زندگی گزارنے سے روکتا ہے۔ خطرات سے بچانے والا خوف ایک مثبت خوف ہے۔ اگر یہ خوف نہ ہو تو لوگ ایسے ہی جنگل میں گھس جائیں اور درندوں کے سامنے کھڑے ہوجائیںاور ان کا شکار بن جائیں۔ آپ نے اس خوف سے نجات حاصل کرنی ہے جو آپ کو تخلیقی طور پر زندگی گزارنے سے روکتا ہے۔
سوال مگر یہ ہے کہ تخلیقی سطح پر زندگی گزارنے کا مطلب کیا ہے؟
جواب ہے: اپنے خوف کو شکست دے کر ایک ذاتی شناخت والی زندگی بسر کرنا۔ ہم زندگی میں اکثر کسی نہ کسی بات سے ڈرتے ہیں ۔ہم ہارنے ، مذاق اُڑانے اورپیچھے رہ جانے سے ڈرتے ہیں۔ ہم کوشش ہی نہیں کرتے، ہم یہی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس بہت کچھ ہے جو ہم دنیا کو دے سکتے ہیں۔ہم دوسرے انسانوں کا بھلا کر سکتے ہیں۔ہمارے پاس اتنی صلاحیتیں اور اتنے خواب ہیں جو ہماری زندگی تبدیل کر سکتے ہیں مگر خوف اور ڈرایسے عناصر ہیں جو ہمیں گھیر لیتے ہیں اورنتیجتاً ہم اپنے خوابوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔

(2)اپنی ذات پر اعتماد کریں
تخلیقی سطح پر زندگی گزارنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں ہوتی بلکہ آپ کو خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اپنے اندرکی تخلیقی صلاحیت باہر لانے کے لیے آپ کو جرات کی ضرورت ہوتی ہے۔
لٹل برادر آرٹسٹ بننا چاہتا تھا۔ وہ اپنے سارے اثاثے فروخت کر کے پیرس چلا گیا۔ وہ پیرس کی گلیمرس زندگی میں کھو جانا چاہتا تھا،لیکن اس کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے۔ اس لیے وہ ایک سادہ زندگی بسر کر رہا تھا۔وہ ہمیشہ تصاویر بنانے،میوزیم دیکھنے اورسفر کرنے میں مصروف رہتا تھا۔ ایک دن اس کی ملاقات پیرس کے ایک رئیس شخص سے ہوئی۔ لٹل برادراپنی باتوں کی وجہ سے رئیس شخص کوپسند آیااور اس نے لٹل برادر کو ایک دعوت پر مدعو کرلیا۔ یہ دعوت ایک محل میں رکھی گئی تھی۔رئیس نے لٹل برادر کوبتایاکہ دعوت میں بہت سے فیشن ایبل اور امیر لوگوں نے آنا ہے اس لیے نفیس کپڑے پہن کر آنا۔لٹل برادر پارٹی میں سب سے ممتاز نظر آنا چاہتا تھا،چنانچہ اس نے بڑی محنت سے اپنے لیے کپڑے منتخب کیے اور دعوت میں پہنچ گیا،لیکن یہاں آکر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ رئیس شخص نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ دعوت میں ایک مخصوص تھیم کے مطابق لباس پہنا جائے گا۔ لٹل برادر کا لباس دعوت کے مخصوص تھیم سے کہیں بھی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اسے بہت شرم آرہی تھی، اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ دعوت چھوڑ کر چلا جائے مگرپھر اسے خیال آیا کہ اس نے یہ لباس بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ چاہے جو بھی ہو وہ اس پارٹی سے لطف اندوز ہوگا۔دعوت میں ایک شخص نے اس سے پوچھا:’’یہ تم کیا بن کر آئے ہو؟‘‘لٹل برادر نے ہنسی مذاق میں اس بات کو ٹال دیا ۔اپنے اعتماد کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں وہ اس دعوت کی مرکزی شخصیت بن گیا۔ لوگ اس پر ہنس رہے تھے اور وہ بڑے اعتماد سے اس دعوت میں گھوم رہا تھا۔
یہی تخلیقی طور پر زندگی گزارنا ہے ۔ اگر آپ دوسروں سے مختلف ہیں تو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اگرتخلیقی سطح پر اپنی مرضی سے زندہ رہنا چاہتے ہیں تو پھردوسروں کی پروا نہ کریں۔

(3) مناسب وقت کا انتظار اپنے آپ کو دھوکا دیناہے
تخلیقی طور پر زندگی بسر کرنے کی کوئی عمر نہیں ہے۔ آپ یہ فیصلہ انیس سال کی عمر میں بھی کر سکتے ہیں اور نوے سال کی عمر میں بھی۔ ایک بوڑھی عورت سے کسی نے پوچھا کیا کوئی ایسی کتاب ہے جو آپ کو بہت پسند ہو۔ اس نے کہا :’’میںنے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں مگر دس سال پہلے میںنے ایک ایسی کتاب پڑھی جس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی۔‘‘غور کریں ۔ایک نوے سال کی بوڑھی عورت کہہ رہی ہے کہ دس سال پہلے اس نے ایک ایسی کتاب پڑھی تھی جس نے اس کی زندگی تبدیل کر دی تھی تو ہماری زندگی بھی زندگی کے کسی بھی حصے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی شخص عمر کے کسی حصے میں بھی تخلیقی سطح پر زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہمیں ان احساسات سے بچنا چاہیے جن میں ہم اپنے اوپر شک کرتے ہیں کہ ہم کسی کام کے نہیں،ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ تخلیقی سطح پر زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اندر کی آواز کو جواب دیں۔

(4)قسمت کارونا مت روئیں،مستقل مزاجی اپنائیں
ہم زندگی میں بہت سے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ناکام رہتے ہیں جس سے ہم مایوس ہوجاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس لیے زندگی میں کوشش چھوڑ دیتے ہیں کہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ یہ چیز ان کی قسمت میں نہیں ہے۔ آپ کو مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔ آپ کا ارادہ اتنا پختہ ہونا چاہیے کہ کوئی بھی شکست آپ کا حوصلہ نہ توڑ سکے۔ کامیابی اور مایوسی کے درمیان جو فاصلہ ہے ہمیں وہ فاصلہ عبور کرنے کی ضرورت ہے۔

خلاصہ
کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر انسان خوف سے نجات پاکر تخلیقی سطح پر زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔ کوئی بھی شخص خوف سے نجات پا کر، اعتماد، پختہ ارادے اور مستقل مزاجی سے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز کر سکتا ہے۔

ہمیں تخلیقی طور پر زندگی بسر کرنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ آپ کے اندر موجود ہے۔

تخلیقی سطح پر زندگی بسر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے کوئی بہت بڑا کام کرنا ہے بلکہ بہت چھوٹے چھوٹے کام بھی آپ کو خوشیاں دے سکتے ہیں۔ آپ کو اطمینان دے سکتے ہیںاورآپ کی ایک الگ شناخت، ایک الگ پہچان بنا سکتے ہیں۔

تخلیقی سفر کے لیے اپنی ذات پر اعتماد کی ضرورت ہے۔

تخلیقی سفر کے لیے کسی مناسب وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ جب آپ فیصلہ کرتے ہیں وہی صحیح وقت ہے۔ یہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ کبھی یہ نہ سوچیں کہ وہ مناسب وقت ابھی نہیں آیا یا وہ وقت تو گزر گیا ہے۔

اس کتاب میں ان باتوں کے علاوہ بھی بہت ساری ٹپس ہیں جو آپ کی زندگی کوشاندار بنا سکتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

01.