Loading 0

Qasim Ali Shah

Share

جذباتی ذہانت

جذباتی ذہانت Column by Qasim Ali Shah Omega-Monday Magazine.

Scroll Down

جذباتی ذہانت

جذباتی ذہانت

جذباتی ذہانت
(قاسم علی شاہ)

جیب سے چابی نکال کر میں نے گھر کا دروازہ کھولا، بائیک اندر کھڑی کی اور تھکے قدموں کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔آج کا دن دفتر میں بہت مصروف گزرا تھا۔ معلوم نہیں کیوں آج باس بڑے غصے میں تھے اور چھٹی تک ان کا غصہ نہیں اتر اتھا۔”پاپا آگئے“ میں انھی خیالوں میں گم تھا کہ میرے بچوں نے اونچی آواز سے شور مچاناشروع کردیا۔سردرد کی وجہ سے بچوں کا شور مجھے بہت برا لگ رہا تھا۔میں چڑچڑاہوگیا اور بیگ ایک طرف رکھ کر اپنے کمرے میں داخل ہوگیا۔جب باہر آیا توبیوی سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی اور تب مجھے یادآیا کہ صبح جاتے ہوئے اس نے مجھے سامان کی ایک فہرست پکڑائی تھی جو کہ میں لانابھول گیا تھا۔بس پھر کیا تھا، اس کی باتیں شروع ہوگئیں اور وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔میں ڈرائنگ روم میں آیا تاکہ اس کی آواز نہ سن سکوں لیکن وہ یہاں بھی میرے پیچھے آگئی،اس کے طعنوں سے میرا خون کھولنے لگا۔میں اس کو بھرپور جواب دینے ہی والا تھا کہ اچانک میری نظر سامنے ریک پر پڑی،جہاں کتابوں کی قطار میں پہلی کتاب Emotional Intellegenceپڑی ہوئی تھی۔مجھے یاد آیا کہ چند دن پہلے میں نے یہ کتاب مکمل کی تھی اور اس کے اہم پوائنٹس میں نے اپنی ڈائری میں نوٹ بھی کیے تھے۔اب وہ ایک ایک کرکے میرے ذہن میں آنا شروع ہوگئے۔میں نے خود کویہ سوچ کر پُرسکون کیاکہ بالآخر غلطی میری ہی تھی جو میں سامان لانا بھول گیا۔اب بیگم کو غصہ آنا فطری بات ہے۔

یہ میرے دوست کی کہانی ہے جو اس نے چند دن پہلے مجھے سنائی تھی۔اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ اگرمیں اس موقع پرجذباتی ذہانت کامظاہرہ نہ کرتاتو گھر کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔عین ممکن تھا کہ میں بھی اپنی بیوی کو بھرپور جواب دے دیتااور پھر تلخ کلامی کا یہ سلسلہ طویل ہوتاجاتا۔ہمارے شور سے پورا گھر گونج اٹھتا۔اس لڑائی کا اثر دیر تک ہمارے ذہنوں پر رہتا، نہ میں کوئی مفید کا م کرپاتا اور نہ ہی میری بیوی۔گھر کے کئی سارے کام بگڑجاتے۔بچے الگ سے گھبراجاتے اور ہماری یہ لڑائی انھیں نفسیاتی طورپر شدید متاثر کرتی۔غصہ ان کی عادت میں شامل ہوجاتااور پھر وہ بھی ایک دوسرے پر چلاتے،لیکن میں نے خود پر کنٹرول رکھااور تھوڑی دیر بعدہی گھر کے حالات معمول پر آگئے۔

”جذباتی ذہانت“ وہ قابلیت ہے جس کی بدولت انسان مشکل حالا ت کو بھی برداشت کرلیتاہے اور اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر بڑے نقصان سے بچ خود کو بچالیتاہے۔”جذباتی ذہانت“ کی تھیوری امریکی ماہر نفسیات ڈینیل گول مین نے پیش کی۔اس سے پہلے IQ(یادداشت کی ذہانت)کاتصور تھا اور اس شخص کو کامیاب تصور کیاجاتا جس کا حافظہ مضبوط ہوتا۔لیکن ڈینیل گول مین نے EQ(جذباتی ذہانت) کا تصور پیش کیا اور بتایا کہ یادداشت کی بنسبت اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والا آدمی زیادہ ترقی کرجاتاہے۔اگر کسی انسان کی یادداشت شاندار ہو لیکن وہ جذباتی طورپرکمزور ہو تو وہ کامیاب ہوکر بھی ناکام ہوجاتاہے۔اس کے برعکس وہ شخص جس کا IQلیول تو اتنا زیادہ نہیں لیکن اس کا EQلیول مضبوط ہے تو وہ زیادہ ترقی کرجاتاہے۔

جذباتی ذہانت میں بہترین انسان ہی ایک بہترین ٹیم لیڈر بنتاہے۔اگر ایک انسان لیڈر بن کر بھی جذباتی ذہانت کی کمی کا شکار ہے تو پھر اس کی ٹیم اس سے خوفزدہ رہے گی، کیوں کہ وہ ایک بنیادی انسانی عادت یعنی اچھے رویے سے محروم ہے اور اسی محرومی کی وجہ سے اس کی ٹیم اس سے دور ہوجائے گی۔ نپولین ہل کہتاہے: ”غصہ اور محبت ایسے طاقتور جذباتی عوامل ہیں جن کی بدولت انسان تعمیری کام بھی کرسکتاہے اور تخریبی بھی۔“اگر ان دونوں جذبات کو انسان کنٹرول کرلے تو ان سے شاندار کامیابیاں حاصل کرسکتاہے لیکن اگر انسان انھیں کنٹرول نہ کرے تو پھر یہ انسان کو کنٹرول کرلیتے ہیں اور اس کوہرلحاظ سے نقصان پہنچاتے ہیں۔غصہ دراصل ایک ہائی جیکر ہے۔یہ انسان کے شعور کو ہائی جیک کرلیتاہے اورپھر وہ چیزوں کو پرکھنے او راچھے برے کی تمیز سے محروم ہوجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے منع کیا گیا ہے کیوں کہ اس وقت عقل کام نہیں کررہی ہوتی اور یہ چیز انسان کے لیے انتہائی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

انسان کاکوئی بھی جذبہ (غصہ، نفرت اور محبت) دراصل اس کے خیال سے جنم لیتاہے۔آپ کے ذہن میں جو بھی اچھا یابرا خیال کسی کے بارے میں آئے گا اسی کے مطابق آپ کے جذبات بھی بنیں گے۔مثال کے طورپرآپ اپنے دوست کے پاس بیٹھے ہیں،اتنے میں ایک انجانا شخص آتاہے اور آپ کے دوست کو بُرا بھلاکہنا شروع کردیتاہے تواس کی وجہ سے آپ کے ذہن میں اس انجانے شخص کے بارے میں منفی خیالات بنیں گے اور ان منفی خیالات کی بنیاد پر آپ کو بھی اس پر غصہ آئے گا لیکن اگر آپ اس شخص کے جذبات کو چھوڑکر اس کے خیال کو پرکھیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ شخص کیوں میرے دوست پر غصہ ہورہاہے تو اس مسئلے کو آسانی کے ساتھ حل کیاجاسکتاہے۔خیال کوکنٹرول کرنے والا انسان ہی جذباتی طورپر مضبوط انسان ہوتاہے۔

ڈینیل گولمین کہتاہے:”اگر آپ کے جذبات آپ کے قابو میں نہیں، اگر آپ خودسے آگاہ نہیں، اگر آپ اپنے پریشان کن جذبات پر قابونہیں رکھ سکتے اور ان کے اظہار کا مثبت طریقہ نہیں تلاش کر سکتے، اگر آپ کے اندر دوسروں سے حسن سلوک کی صلاحیت نہیں، آپ دوسرے لوگوں سے مناسب تعلقات استوار نہیں کر سکتے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنے ذہین ہیں کیوں کہ آپ کی کامیابی کا سفر زیادہ دور تک نہیں جا سکے گا۔“

”جذباتی ذہانت“ ایک صلاحیت ہے جس سے آپ اپنے جذبات کو اچھے طریقے سے سمجھ کر مینیج کر سکتے ہیں۔ آپ کی جذباتی ذہانت کا فیصلہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کے دوسروں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔ آپ اپنے روزانہ کے کام کاج میں اپنے ذہنی دباؤکو کیسے سنبھالتے ہیں۔ آپ لوگوں سے کتنے اچھے طریقے سے بات کر سکتے ہیں اور آپ اپنے کام میں کتنے بہتر ہیں۔جذباتی ذہین بننے کامطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنے مثبت اور منفی جذبات کو سنبھالنے کا طریقہ آنا چاہیے۔

ڈینیل گولمین کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ زندگی میں کامیابی کے لیے آئی کیو (ذہنی قابلیت) صرف پندرہ فی صدکردار اداکرتی ہے جبکہ پچاسی فیصد کردارجذباتی ذہانت ادا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام صرف ایک ذہانت کو دیکھتا ہے،وہ اپنے حافظے اور یادداشت کا استعمال ہے جسے ہم رٹا کہتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں ذہانت کی مختلف اقسام کے نظریے کو شامل نہیں کیا گیاحالانکہ اچھی زندگی گزارنے کے لیے جذبات کو قابو میں رکھنے کے علاوہ جذبات کواستعمال کرنے اور ان کے اظہار کا طریقہ آنابھی ضروری ہے۔

جذباتی ذہانت کو کیسے استعمال اور بڑھایاجاتاہے؟اس کے مختلف طریقے ہیں۔
زندگی کے مختلف تجربات دراصل ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں چیزوں اور انسانوں کے بارے میں کیارائے بنانی چاہیے۔ یہ رائے درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔اسی طرح ہم اپنے مشاہدے سے بھی سیکھتے ہیں کہ کن لوگوں کے ساتھ کیسا تعلق بناناچاہیے۔اسی بنیاد پرہم دوسروں کے جذبات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنا ردعمل دیتے ہیں۔ تیسرا ذریعہ ہمارا غوروفکر ہے جس کے ذریعے ہم دوسروں کے رویوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ہمارے سامنے ایسی بہت ساری مثالیں ہیں کہ ایک شخص اپنے پیشہ ورانہ تعلق میں بہترین ہوتا ہے مگر اپنے ذاتی تعلقات میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔اسی طرح بعض لوگ پیشہ ورانہ تعلق میں بھی جذباتی ذہانت کو استعمال کرنا نہیں جانتے۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی ساری کمپنیوں میں ماتحتوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کے مینیجرزظالم اور بے رحم ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے لوگ انھیں ناپسند کرتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے اور اپنے ماتحتوں کے بیچ ایک دیوار کھڑی کردیتے ہیں۔وہ بندوں سے صرف کام لیتے ہیں ان کے جذبا ت کااحترام نہیں کرتے۔ پھرملازمین بھی کام کو بوجھ سمجھ کر کرتے ہیں او ر اسی وجہ سے ادارے کی ترقی رُک جاتی ہے۔

ڈینیل گولمین نے اسی قسم کے حالات کا مشاہدہ کیا۔ اس نے دیکھاکہ اداروں میں ٹیکنالوجی تو آرہی ہے،انتظامی مہارتیں بھی بڑھ رہی ہیں لیکن ترقی نہیں ہورہی۔ اس نے دیکھا کہ جو لوگ کامیاب تھے،یہ وہی لوگ تھے جو جذباتی طور پر مستحکم تھے اور ان کا دوسروں سے رویہ بھی بہتر تھاجبکہ جذباتی ذہانت سے محروم لوگ قابلیت کے باوجود بھی ترقی نہیں کرسکے۔

ہم جذباتی ذہانت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے لیے پانچ طریقوں پر عمل کرسکتے ہیں۔

(1)اپنے آپ کو جاننا
اپنے آپ کو اور اپنے جذبات کو جاننابہت ضروری ہے۔آپ اپنی ذات سے آگاہ ہوں گے تو آپ کو اپنے جذبات کا بھی علم ہوگاکہ کن چیزوں پر آپ کوغصہ آتاہے اورکن پر آپ خوش ہوتے ہیں۔لیکن اگر آپ بے خبر ہیں توپھر اپنے جذبات کا درست استعمال بھی نہیں کرسکیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سمندر کی گہرائی کا اندازہ کیے بغیر آپ چھوٹی سی کشتی میں سمندر میں نکل جائیں تو آپ اس کی موجوں کا مقابلہ نہیں کرپاسکیں گے۔

اپنے آپ کو جاننے کے تین درجے ہوتے ہیں۔
(i) آپ کیا کر رہے ہیں۔(ii)آپ جو کر رہے ہیں اس سے کیا محسوس کر رہے ہیں۔(iii)آپ اپنے بارے میں کیا نہیں جانتے۔
بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کیا کرنا ہے وہ بس ایک خود کار نظام کے تحت چلتے رہتے ہیں۔ ان کی جو عادت بنی ہوتی ہے اسے باربار دہراتے ہیں۔ایک بامقصد زندگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان کو علم ہوکہ وہ جو کچھ کررہا ہے اس کاکوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں۔اسی طرح روزمرہ زندگی میں سرانجا م دینے والے کاموں کو محسوس کرنا ضروری ہے تاکہ معلوم ہو کہ کس کام کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے بارے میں جاننا کہ میں کیا نہیں جانتا،یہ بھی ضروری ہے تاکہ اپنی لاعلمی کو ختم کیا جاسکے اور اپنی زندگی کو بہتر بنایاجاسکے۔

(2)جذبات پر قابو:ایک رِسک
ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ جذبات کو قابو میں رکھیں حالانکہ یہ طریقہ جسمانی اور نفسیاتی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ قابو رکھنے کے بجائے ہمیں جذبات کا مثبت استعمال اور انھیں چینلائز کرنا سیکھنا چاہیے اور یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ اپنے جذبات کے ذریعے اپنی موٹیویشن کے لیول کوکیسے بڑھایاجاسکتاہے۔

(3)موٹیویشن کا انتظا ر نہ کریں
آپ کو یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ آپ میں موٹیویشن پیدا ہوگی تو کچھ کریں گے۔موٹیویشن لینے کے لیے آپ کسی بیرونی چیز کے محتاج نہ بنیں بلکہ اس کے بغیرکام شروع کریں، کام کرنے سے موٹیویشن ملتی ہے۔ موٹیویشن سے ہم اپنے عمل میں اضافہ کرتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلتارہتاہے۔

(4)جذبات کو تسلیم کریں
اگر آپ دوسروں کے جذبات کو پوری طرح نہیں سمجھتے تب بھی آپ انھیں تسلیم کرنے کی کوشش کریں۔لوگوں کوزیادہ سے زیادہ سنیں تو آپ ان کے جذبات کو سمجھنے میں مہارت حاصل کرلیں گے۔

”IQ“(یادداشت)جہاں آپ کی جاننے اور سمجھنے کی صلاحیتوں اور حاصل کردہ معلومات کو درست طریقے سے استعمال کرنے کا نام ہے وہیں ”EQ“ (جذبات)اپنے اور دوسروں کے جذبات کوسمجھنے اور اس کا درست ردعمل دینے کانام ہے۔جن لوگوں کی جذباتی ذہانت بہترین ہوتی ہے وہ بدلتے ہوئے ماحول میں زیادہ آسانی سے ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں اور جن لوگوں کو اپنی جذباتی ذہانت سے کام لینا نہیں آتا وہ چڑچڑے پن، ڈیپریشن، فرسٹریشن اور منشیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔جذباتی ذہانت کو بڑھانا اور اس کا استعمال کرنانہ صرف انفرادی طور پربلکہ خاندان اورادارے کی سطح پربھی ضروری ہے۔

جذباتی ذہانت آپ کوغصہ، ڈیپریشن اور دیگر نفسیاتی ذہانت سے بچاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی کامیابی میں بھی بھرپور کردار اداکرتی ہے۔

1 thought on “جذباتی ذہانت

Leave a Reply

Your email address will not be published.

01.