Loading 0

Qasim Ali Shah

Share

ندگی میں 100 فی صد توازن کیسے ممکن ہے؟

ندگی میں 100 فی صد توازن کیسے ممکن ہے؟ Column by Qasim Ali Shah. Family Magazine.

Scroll Down

ندگی میں 100 فی صد توازن کیسے ممکن ہے؟

ندگی میں 100 فی صد توازن کیسے ممکن ہے؟

ندگی میں 100 فی صد توازن کیسے ممکن ہے؟
(قاسم علی شاہ)
تین حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انھیں نبی کریم ﷺ کا عمل بتایا گیا تو جیسے انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریمﷺسے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ پس میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
(صحیح البخاری:5063)
میانہ روی انسانی زندگی کاوہ اہم عنصر ہے جس کی بدولت زندگی پرسکون اور بہترین ہوجاتی ہے۔چاہے وہ رہن سہن ہو ، کھانا پیناہو، لباس ہو یادینی معاملات۔یہی وجہ ہے کہ دین نے بھی میانہ روی اور اعتدال کوبہترین طریقہ قراردیاہے۔سیرت النبی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبرانہ ذمہ داریوں اور عبادت کے باوجود آپ ﷺ اپنی پرسنل زندگی کو بھی بہترین انداز میں گزارتے نظر آتے ہیں۔آپ گھر کے کاموں میںگھروالوں کے ہاتھ بٹاتے ہیں ، اپنے کام خودکرتے ہیں ، بیماروں کی بیمار پرسی بھی کرتے ہیں ،اپنے نواسوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے اور ان کی تربیت بھی کرتے نظرآتے ہیں۔

دراصل کامیاب زندگی کاراز بھی یہی ہے کہ اس میں تمام دینی اور دنیاوی کاموں کو میانہ روی کے ساتھ چلایاجائے اور کسی ایک جانب اس قدر زیادہ توجہ نہ دی جائے کہ اس کی وجہ سے دوسری جانب کے حقوق پامال ہوں۔

آج کی ماڈرن دنیا میں زندگی کی رفتار انتہائی تیز ہوگئی ہے جس نے ہر انسان کوتیز رفتار بنادیا ہے اور اب ہر شخص زیادہ سے زیادہ محنت کرتا اور پیسے کماناچاہتاہے لیکن کامیابی کے پیچھے اندھادھند بھاگتے بھاگتے وہ اس بات کو بھول جاتاہے کہ اس کے اپنے اس سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔وہ پیسا تو کمالیتاہے ، نام بھی بنالیتاہے لیکن اپنوں کی صورت میں قدرت نے اس کوجو خوب صورت تحفے دیے ہوتے ہیں وہ اس کی بے رُخی کا شکار ہوکراس کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اورنتیجتاً وہ کھوکھلے پن کاشکار ہوکرچین وسکون سے محروم ہوجاتاہے۔

ایک پرسکون زندگی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ انسان اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں توازن کیسے قائم کرتاہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام میں مصروف رہاجاتاہے۔بندہ کام کرتے کرتے مشین بن جاتا ہے۔ وہ اپنی ذاتی زندگی اوربیوی بچوں کے لیے وقت نہیں نکال پاتا۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ مشینوں کو بھی دیکھ بھال اور مرمت کی ضرورت ہوتی ہے وگرنہ مشینیں جلد خراب ہو جاتی ہیں اور انسان تو انسان ہے اس کے اپنے جذبات ہیں، وہ خوش ہوتا ہے، ناراض ہوتا ہے، غصہ کرتا ہے اور تھک بھی جاتا ہے۔ اتنی ساری کیفیات سے گزرنے والے شخص کو ذہنی اور جسمانی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اسے آرام اور اطمینان کے لمحے میسر نہ آئیں تو اس کی زندگی میں چڑچڑا پن اور ذہنی دباؤ شروع ہو جاتا ہے۔

ہم اگر دیگر ممالک کی بات کریں تو وہاں بھی مقابلے کی سخت فضا ہے۔ہر شخص تیزی میں ہے اور زندگی میں آگے بڑھنا چاہتاہے لیکن اس کے ساتھ ایک چیز کا احساس وہاں پر موجود ہے۔وہ کام اور ذاتی زندگی کو الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ ہفتہ بھر سخت محنت کرتے ہیں لیکن پھر ویک اینڈ کو سیر وتفریح کرتے اور خود کو ذہنی طورپر تازہ دم بھی کرتے ہیں۔کام کے دوران میں ان کی پوری توجہ کام پر ہوتی ہے اور سیر و سیاحت میں پھر وہ کام کے متعلق فکریںنہیں پالتے۔جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔یہاں دوطرح کے مزاج ہیں۔ایک طرح کے لوگ وہ ہیں جو کام کو سنجیدگی سے لیتے ہی نہیں۔کام کے وقت میں سیاسی بات چیت، سیروتفریح کی باتیں عام کی جاتی ہیں۔کام سے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے یا پھر بس کسی نہ کسی طرح دفتری وقت کوگزاراجاتاہے۔دوسرا مزاج وہ ہے جو کام کو اس قدر سر پرسوار کرلیتاہے کہ گھر آکر بھی کام میں لگے ہوتے ہیں۔یعنی ان کادفتر پھیلتے پھیلتے ان کے گھر تک آجاتاہے۔کام کے سلسلے میں وہ اپنے آپ کو ، اپنی فیملی کو ، دوست احباب اوررشتہ داروں کو بھی بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر سیر و تفریح پر بھی جائیں تو وہاں بھی کام کی فکریں انھیں لطف اندوز ہونے نہیں دیتیں۔یہ لوگ نام تو کمالیتے ہیں ، پیسا بھی کمالیتے ہیں لیکن ان کی زندگی سے انسان آہستہ آہستہ کم ہوتے جاتے ہیںاورپھریہ سماجی طورپر اکیلے ہوجاتے ہیں۔گیری کلر کہتاہے کہ کام کی مثال ربر والی گیند کی طرح ہے۔اس کو زمین پر ماریں تو یہ دوبارہ آپ کے ہاتھ تک واپس آتی ہے جبکہ فیملی ، صحت ، دوست اور عزت کی مثال شیشوں سے بنی گیند کی طرح ہے۔یہ ہاتھ سے چھوٹ جائے توپھر ان کی صرف کرچیاں ہی ملتی ہیں۔
زندگی میں سو فیصد توازن کیسے ممکن ہے؟

اس کا جواب ہے ایسا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔ بعض کی معاشی زندگی بہت زبردست ہے مگر گھریلو زندگی بہت خراب ہے۔انسان کی زندگی کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں۔ کامیاب سے کامیاب انسان زندگی کے کسی نہ کسی شعبے میں کمزور ہوتاہے۔ اگر انبیاء کرام کے علاوہ دیکھا جائے تو ہمیں ایسی کوئی شخصیت نظر نہیں آتی جو اپنی زندگی کے تمام معاملات میں مثالی توازن قائم رکھ سکی ہو۔ رشتوں میں توازن بہت اہم اور نازک معاملہ ہے ۔یہ سو فی صد بہترین نہیں ہوسکتا ہم نے بس یہ کوشش کرنی ہے کہ جس قدر ہماری استطاعت ہے اس کے مطابق خود کو بہترین بنانے کی کوشش جاری رکھیں۔ہر انسان بیک وقت کئی ساری ذمہ داریاں نبھارہا ہوتاہے۔وہ بیٹا، بھائی ، شوہر اور باپ ہوتاہے۔اس کے رشتے دار بھی ہوتے ہیں۔دوست احباب بھی ہوتے ہیں۔کچھ دوست انتہائی قریبی ، انتہائی بااعتماداور کچھ عام سے ہوتے ہیں۔کچھ لوگ اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔وہ یہ ذہن میں رکھے کہ کیسے میں دوسرے تمام معاملات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی اچھے انداز میں ہینڈل کروں اور اپنی ان ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں نبھائوں۔

ایک خوش گوار اور صحت مند زندگی کامطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کو پچاس پچاس فیصد کے دو حصوں میں بانٹ دیں بلکہ اس کا مقصد زندگی کے بارے میں ایک ایسی لچکدار منصوبہ بندی ہے جس کے ذریعے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن اور اعتدال قائم ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کسی ایک زندگی کو اپنے ذہن پر غیر ضروری انداز میں حاوی نہ کریں۔کام کی فکریں اپنے گھر نہ لائیں اور گھر کی پریشانیوں کو کام کے دوران اپنے سر پر سوار نہ رکھیں۔ پیشہ ورانہ زندگی کو پوری اہمیت اور ترجیح دیں مگر اس کی خاطر اپنی ذاتی زندگی، سماجی تعلقات اور دوسرے معاملات کونظرانداز نہ کریں بلکہ انھیں پوری اہمیت دیں۔پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی، دونوں جگہ اپنی خوشیوں اور ذہنی سکون کا خیال رکھیں۔
Work-life Balance
کامسئلہ تب شروع ہوتاہے جب انسان یہ سوچ لیتاہے کہ مجھے اور میری فیملی کو جو مسائل ہیں ان کاحل صرف پیسے میں ہے ۔ اس کے لیے مجھے اتنا اتنا پیسہ کمانا ہے۔پھر وہ اس کوشش میں لگ جاتاہے اور دن رات کی پروا سے آزاد ہوکر اس کے پیچھے لگ جاتاہے۔ یہ سوچ غلط ہے۔زیادہ پیسہ واحد حل نہیں ہے بلکہ اس سے اہم چیز ہے انسان کا اپنی خواہشات کو کنٹرول کرنا ۔یہ خواہشات ہی ہیں جو انسان کو پیسے کے پیچھے بھگاتی ہیں اور ایک طرح سے اس کو غلام بنالیتی ہیںحالانکہ اگر ایک انسان کوتین وقت کی روٹی ، مناسب لباس اور گھر ملا ہواہوتو پھر اس کومزید پیسے کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت ہی کیاہے۔
Work-life Balance
کوکنٹرول کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان ایساکام کرنا چھوڑدے جس کی وجہ سے اس کی ذاتی زندگی خراب ہورہی ہے۔کیوں کہ صرف پیسہ کمانا ہی زندگی نہیں ہے۔اگر انسان کے پاس اپنوں کی صورت میں لوگ نہ ہوں تو پیسے کمانے کاکیا فائدہ۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ جو ادارے اپنے ملازمین کے کام اور ذاتی زندگی میں توازن کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کو مستقل، کارآمد اور وفادار افرادی قوت میسر آتی ہے۔ ان اداروں میں غیر حاضری بھی کم دیکھی گئی ہے۔

زندگی میں اطمینان لانے کے لیے اپنی ذات کاخیال رکھنا بھی ضروری ہے۔آپ کو پرسکون نیند اور صحت مند خوراک چاہیے۔یاد رکھیں آپ کی ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی صحت سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر آپ ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی طورپرصحت مندہوں گے تو آپ اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے انجام دے سکیں گے۔

اس مصروف ترین زندگی میں اپنے لیے کچھ وقت نکالیں۔ کچھ دیر کے لیے دنیا سے الگ تھلگ ہونے سے نہ ڈریں۔ تنہا بیٹھ کر کتاب پڑھنا، اکیلے سفر پر نکلنا، لمبی چہل قدمی کرنا، پسندیدہ موسیقی سننا، چھٹیوں پر کہیں دوسرے شہر میں چلے جانا۔ یہ تمام وہ کام ہیں جو آپ کو اپنے کاموں کے لیے دوبارہ طاقت فراہم کرتے ہیں۔

ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن دراصل ذاتی زندگی کا تحفظ ہے۔یہ درست ہے کہ زندگی میں شفافیت ہونی چاہیے ،منافقت نہیں ہونی چاہیے مگر یہ بھی آپ کا حق ہے کہ آپ اپنے بارے میں کیا بتانا چاہتے ہیں اور کیا چھپانا چاہتے ہیں۔ شفافیت ضروری ہے مگر کن معاملات میں ضروری ہے یہ بھی طے کرنا چاہیے۔ مہذب رہتے ہوئے جو چیزیں شیئر کرنے کے قابل ہیں وہ ضرور کریں۔ یہ لائف مینجمنٹ ہے۔

آپ نے سرکس کی رسی پر بازی گر کو چلتے دیکھا ہوگا۔اس کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈنڈا ہوتاہے جس کو بیلنس میں رکھ کرہی وہ اپنا بیلنس درست رکھتاہے اور تب ہی وہ رسی پر چل پاتاہے۔زندگی بھی سرکس کی اس رسی کی مانند ہے۔اس پر کامیابی سے چلنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے ہاتھ میں جو ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کاڈنڈاہے اس کو توازن کے ساتھ رکھیں تب ہی آپ ایک مطمئن اور پرسکون زندگی گزارسکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

01.